فرانس اور اسپین میں جنگلات کی آگ سے 3,25,000 سے زائد افراد بے گھر
پیرس، 27 جولائی (کیو این اے) فرانس اور اسپین میں جنگلات کی آگ کے باعث 3,25,000 سے زائد افراد کو اپنے گھروں سے نکلنا پڑا، خاص طور پر جنوب مغربی فرانس کے بورڈو کے قریب اور اسپین کے متعدد علاقوں میں۔
فرانسیسی حکام نے بتایا کہ فائر فائٹرز آگ کو قابو کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں، جس سے 240 گھر تباہ ہو چکے ہیں، خاص طور پر بورڈو کے قریب۔ شعلے شہر سے صرف 15 کلومیٹر دور تک پہنچ گئے ہیں۔
حکام نے کہا کہ بورڈو علاقہ ایک بڑی آگ کا سامنا کر رہا ہے جسے "فائر اسٹورم" کہا جاتا ہے، اور یہ آگ فرانس میں دوسری عالمی جنگ کے بعد ریکارڈ کی گئی سب سے بڑی آگوں میں سے ایک ہے۔
اسپین میں حکام نے بتایا کہ میڈرڈ علاقے میں تقریباً 60,000 افراد کو نکالا گیا ہے، جسے حکام ملک کی جدید تاریخ کی سب سے بدترین جنگلات کی آگ قرار دیتے ہیں۔
اسپین بھر میں اپنے گھروں یا سیاحتی رہائش گاہوں سے نکالے گئے افراد کی کل تعداد 75,000 ہو گئی ہے، جبکہ آگ نے تقریباً 77,000 ہیکٹر رقبہ جلا دیا ہے۔
اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے کہا کہ فائر فائٹرز رہائشیوں کو بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں، اور ملک "مشکل اوقات" کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میڈرڈ کے ارد گرد جنگلات کی آگ کو قابو کرنے کی کوششوں میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔
فرانس کے کئی حصوں میں حالیہ ہفتوں میں ہیٹ ویو اور خشک سالی نے جنگلات کی آگ کے تیزی سے پھیلنے میں کردار ادا کیا ہے۔ (کیو این اے)
English
Français
Deutsch
Español
русский
हिंदी
اردو